جلوہ گر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - نمودار، ظاہر، نمایاں، رونق بخش۔  دیکھ کر حسن محمد کہتے ہیں اہل نظر نور مطلق ہو گیا ہے جلوہ گر تعین میں      ( ١٩٥٥ء، رباعیات امجد، ١٠٢:٣ ) ٢ - رونق کا سبب، ظاہر، روشن۔  جب سے اہل حسن کی گردن پہ ہے احسان عشق حسن کے پیکر میں جب سے جلوہ گر ہے جان عشق      ( ١٩١٦ء، نقوش مانی، ٣٠ ) ٣ - نمودار، نمایاں، رونق افروز۔ "چاند اپنی آب و تاب سے سطح آسمان پر جلوہ گر تھا۔"      ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جلوہ' کے ساتھ فارسی لاحقۂ فاعلی 'گار' کی تخفیف 'گر' لگنے سے مرکب 'جلوہ گر' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - نمودار، نمایاں، رونق افروز۔ "چاند اپنی آب و تاب سے سطح آسمان پر جلوہ گر تھا۔"      ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٧ )